نئی دہلی،13؍نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجروال نے دیوالی سے ایک روز قبل ڈیجیٹل پریس کانفرنس کے ذریعے کہا کہ قومی راجدھانی میں کورونا وائرس کے بڑھتے معاملوں کی ایک بڑی وجہ آلودگی ہے۔ انہوں نے اس کا ٹھیکرا دوسری ریاستوں پر بھی پھوڑا اور کہا کہ پرالی جلانے کی وجہ سے پورے ایک مہینے تک شمالی ہندوستان پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش اور دہلی میں دھواں دھواں ہو جاتا ہے۔
آلودگی کے معاملے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا، "پچھلے 10–12 سالوں سے ہر سال اکتوبر اور نومبر میں پرالی جلنے کی وجہ سے پورا شمالی ہندوستان پریشان ہے۔ تاحال اس کے بارے میں کوئی ٹھوس اقدام نہیں لیا جا سکا۔ ہر سال اس وقت صرف شور مچایا جاتا ہے، سیاست ہوتی ہے۔‘‘
کیجریوال نے دیوالی کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پرالی کے مسئلہ سے کسان پریشان رہتے ہیں لیکن اب ایسا نہیں ہوگا کیوں کہ پوسا ایگریکلچر انسٹی ٹیوٹ نے اس کا حل نکال لیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہاں کے سائنسدانوں نے ایک ایسا بایو ڈی کمپوزر تیار کیا ہے جس کا گھول بنا کر جھڑکنے سے پرالی 20 دن کے اندر گل جاتی ہے اور کھیتوں میں کھاد بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت نے دہلی کی 2000 ایکڑ زرعی زمین پر اس کا چھڑکاؤ کرایا ہے۔
کیجریوال نے کہا، "دہلی کے 24 گاؤں میں بائیو ڈی کمپوزر کو چھڑکنے کے 20 دن بعد سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 70 سے 95 فیصد تک ڈنٹھل گل چکی ہے، اس سے کسان خوش ہیں۔ اب حل نکل گیا ہے، اب باری حکومتوں کی ہے، کیا وہ اس کو عملی جامہ پہنائیں گی!‘‘
کیجریوال نے کہا، اس وقت دہلی میں کورونا بڑھ رہا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ آلودگی ہے۔ دہلی کے عوام نے گذشتہ ماہ تک کورونا پر قابو پالیا تھا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اگلے ہفتہ سے حکومت متعدد اقدامات اٹھانے جارہی ہے اور اس پر غور و خوض کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں اگلے 10 دنوں کے اندر پھر سے کورونا قابو میں آ جانا چاہئے۔